دمشق ،2جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)حال ہی میں روس اور ترکی مساعی سے شام میں بشارالاسد کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا۔ جنگ بندی معاہدے میں اپوزیشن کی نمائندہ جیش الحر کے ماتحت 14 عسکری گروپوں نے بھی دستخط کیے ہیں۔شام میں جنگ بندی معاہدے کا حصہ بننے والے اپوزیشن کے گروپوں میں فیلق الشام سر فہرست ہے۔ اس کے 19ذیلی گروپ اور 4ہزار جنگجو ہیں۔ یہ تنظیم حلب، ادلب ، حمات اور حمص میں لڑائی میں حصہ لے چکی ہے۔دوسری اہم تنظیم احرار الشام ہے۔ اس کے 80ذیلی یونٹ ہیں اور کل جنگجوؤں کی تعداد 16ہزار ہے۔ یہ گروپ حلب، مضافات حلب، درعا، ادلب، اللاذقیہ، حمات اور حمص میں لڑتی رہی ہے۔ثوار الشام نامی گروپ کے 8ذیلی بریگیڈ اور 10ہزار جنگجو ہیں، اس گروپ کا مرکز حلب، ادلب اور اللاذقیہ رہے ہیں۔عسکری تنطیم سلطان مراد بھی جیش الحر کے وفاداری میں لڑتی رہی ہے۔ حلب اور جنوبی حلب میں اس کے سیکڑوں جنگ سرگرم رہے۔
صقور الشام نامی گروپ کے 12ذیلی بریگیڈ ہیں جن سے 16ہزار جنگجو وابستہ ہیں۔ ادلب اور حلب اس گروپ کے اہم مراکز ہیں۔الشامی محاذ کے پانچ ذیلی گروپ اور تین ہزار جنگجو ہیں۔ یہ گروپ حلب، ادلب اور دمشق میں لڑائی میں شامل رہا ہے۔جیش العزۃ شمال مغربی شام میں لڑنے والی اپوزیشن کی تنظیم ہے۔ اس کی زیادہ تر سرگرمیاں ساحلی علاقوں تک محدود ہیں۔شہداء اسلام بریگیڈ ادلب میں سرگرم رہا، جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں ادلب الحر کے چھ ہزار جنگجو بھی شامل ہیں۔ ادلب، حلب، اللاذقیہ اور حمات ان کے مراکز ہیں۔جیش الحر کے ماتحت جنگ بندی معاہدے میں شامل ہونے والے گروپوں میں فیلق الرحمان بھی شامل ہے۔ یہ تنظیم دارالحکومت دمشق میں سرگرم رہا ہے۔جیش الاسلام کے 64ذیلی گروپ ہیں جن سے 12ہزار افراد وابستہ ہیں حلب، دمشق، درعا، دیر الزور، اللاذقیہ، حمات اور حمص اس کے مراکز ہیں۔